نئی دہلی ،25جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اجودھیا میں مندر۔مسجد تنازع کے درمیان بودھوں نے بھی دعوی کر دیا ہے ۔بودھو ں کے دعوے پر سپریم کورٹ میں نہ صرف عرضی قبول کی گئی ہے بلکہ دو مرتبہ سماعت بھی ہو چکی ہے۔ اس معاملے میں وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے کہا ہے کہ اسے بودھوں سے نہیں صرف بابر سے دقت ہے۔ اجودھیا ہندوؤں ہی نہیں بودھ اور جین مذہب کے لوگوں کی بھی نگری ہے۔
ایک طرف جہاں کچھ ہندو وادی تنظیم 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے رام مندر تعمیر کی شروع کرنے کا دعوی کر رہی ہیں وہیں دوسری جانب سپریم کورٹ میں سماعت ہو رہی ہے۔ ایسے میں اچانک بودھ مذہب ماننے والوں کے دعوے سے معاملے میں نیا موڑ آ گیا ہے۔اس معاملے کو لیکرذرائع نے وی ایچ پی کے جوائنٹ سکریٹری جنرل سریندر جین سے بات چیت کی۔
سریندر جین نے کہا کہ ایودھیا بہت سارے فرقوں کی مقدس زمین ہے۔ وہ بودھوں کی بھی ہے ،جینیوں کی بھی ہے، ہمیں بودھوں کے دعوے سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔وہاں پر سوال یہ ہے کہ بابر کا کچھ رہے گا یا نہیں ۔ باقی سے کوئی دقت نہیں ہے۔باقی تو ہم بیٹھ کر حل کر لیں گے۔ وہاں بابر کا کی باقیات نہیں رہنے چاہئیں۔ اجودھیا میں بھگوان رام کا مندر بننا چاہئے۔ بھگوان بودھ کے اوتار تھے اور بھگوان رام بھی وشنو کے اوتار تھے۔
اجودھیا پر کس کے دعوے میں ہے دم ؟
جبکہ ، اکھل بھارت ہندو مہا سبھا کے صدر سوامی چکر پانی نے کہا کہ تیسری پارٹی سستی مقبولیت حاصل کرنے کے لئے عدالت میں گئی ہے۔ ادھر اس معاملے پر جب ہم نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر کمال فاروقی سے بات چیت کی تو انہوں نے کہا ، "میں اس معاملے کو چیک کرکے ہی کچھ بتا پاؤں گا"۔
ایودھیا کے رہنے والے ونیت کمار موریہ نے دعوی کیا ہے کہ یہاں نہ مندر تھا ، نہ مسجد تھی۔ یہاں تو بودھ کی زمین تھی۔ اسے لیکر موریہ نے مارچ میں سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ موریہ کے مطابق اس معاملے کو لیکر دو مرتبہ سماعت ہو چکی ہے۔ اگلی سماعت 27 جولائی کو ہے۔